ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / بند کمرے میں ہوئی مجلس اصلاح و تنظیم بھٹکل کی انتظامیہ نشست۔ اندرونی باتوں کا انتظامیہ اراکین نے ہی کیا سوشیل میڈیا پر انکشاف

بند کمرے میں ہوئی مجلس اصلاح و تنظیم بھٹکل کی انتظامیہ نشست۔ اندرونی باتوں کا انتظامیہ اراکین نے ہی کیا سوشیل میڈیا پر انکشاف

Mon, 01 Apr 2019 20:49:01    S.O. News Service

بھٹکل یکم اپریل  (ایس او نیوز) مجلس اصلاح و تنظیم بھٹکل کے عام انتخابات کے بعد کل اتوار کو تنظیم ہال میں پہلی انتظامیہ نشست کا اہتمام کیا گیا تھا۔ بند کمرے میں منعقدہ اس میٹنگ میں  میڈیا والوں کو بھی  اندر جانے کی اجازت نہیں تھی اور باہر ہی جلی حرفوں میں لکھا گیا تھا کہ صرف ایجنڈہ کی ذریعے بلائے گئے اراکین ہی میٹنگ ہال میں تشریف لاسکتے ہیں۔ 

مگر میٹنگ میں جب  بعض حلقوں کے انتخابات جاری تھے  تو حیرت انگیز طور پر انتظامیہ اراکین  کے ذریعے ہی  پل پل کی جانکاری سوشیل میڈیا کے ذریعے باہر عوام کوپہنچائی  جارہی تھی اوراراکین کے ذریعے ہی صیغہ راز کی باتیں سوشیل میڈیا پر لیک ہورہی تھیں۔

حیرت کی بات یہ بھی رہی کہ میٹنگ ہال میں لکھے گئے بورڈ کی تصاویر اتنی سرعت کے ساتھ وہاٹس ایپ پر آرہی تھی کہ ایسا لگ رہا تھا کہ تنظیم کی جانب سے ہی   اس کام کے لئے کسی کو ذمہ داری سونپی گئی ہو۔

 جب وہاٹس ایپ پر اندر لگے ہوئے بورڈ کی فوٹو ہی پوسٹ ہونے  لگی جس میں درج تھا کہ  انتخابات میں کون کون لوگ کھڑے ہیں، کس کو کتنے ووٹ ڈالے گئے ، کن کن کو انتخابات میں شکست ہوئی، کون کتنے ووٹوں سے ہارا ۔ نہ صرف بھٹکل بلکہ گلف کے شہروں میں مقیم لوگوں کو بھی ہر بات کا علم ہورہا تھا، وہاٹس ایپ مسیجس سے بعض اُمیدواروں کے حامی خوش نظر آرہے تھے تو بعض میں سخت ناراضگی  پائی جارہی تھی۔   ایسے میں  ظاہر بات ہے، ہارنے والے اکثر   اُمیدواروں   کو سخت شرمندگی اور ہزیمت  اُٹھانی پڑی اور اُنہوں نے سُبکی محسوس کی۔ کئی لوگ اس بات پر ناراض نظر آئے کہ کیوں انتخابات میں اُن کے نام پیش کئے گئے اور کیوں اُنہیں ہراکر شرمندہ کیا گیا۔ خبر ملی ہے کہ اسی بات کو لے کر بعض علاقوں میں لفظی جھڑپیں بھی ہوئی ہیں اور اسی بات کو لے کر بعض ذمہ داران،   دوسرے ذمہ داران پر ہی برس پڑے ہیں۔

تعجب اس بات پر ہے کہ بعض اراکین  انتظامیہ   ہال کے  اندر ہی بیٹھ کر میٹنگ کی امانت میں خیانت کررہے تھے لیکن نہ اُن کا الیکشن کمشنر صاحب نوٹس لے رہے تھے، نہ اُن کے معاونین اور نہ ہی دیگر ذمہ داران  اُس طرف توجہ دے رہے تھے۔ حالانکہ حدیث نبوی کی ہدایت (المجالس بالامانة )  مجلسوں کے لئے امانت داری ضروری ہے کے مطابق ایسی مجلسوں کی باتوں کو باہر آکر بیان کرنا انتہائی درجہ کی خیانت ہے جس کا پاس و لحاظ رکھنا ہر‌ مسلمان پر ضروری ہے۔

عوام سوال کررہے ہیں کہ  اگر اندرونی باتوں کو  سوشیل میڈیا کے ذریعےظاہر کرنا ہی تھا تو مقامی میڈیا  کے ذریعے پوری نشست کا  لائیوٹیلی کاسٹ کیوں نہیں کیا گیا  ؟  اب 9/اپریل کو  تنظیم کے عہدیداران کا انتخاب ہوگا، عوام سوال کررہے ہیں کہ کیا اُس نشست  کے موقع پر بھی سوشیل میڈیا پر ایسے ہی تمام خبریں لیک ہوتی رہے  گی ؟ کیا ایسا ہونے کی صورت میں ہارنے والے اُمیدواروں کی بدنامی نہیں ہوگی ؟ کیا اُن کو عوام کے سامنے جانے سے شرمندگی محسوس نہیں ہوگی ؟ کیا ذمہ داران قوم اس تعلق سے  کوئی قدم اُٹھائیں گے ؟

واضح رہے کہ جب سے موبائل فون اور سوشیل میڈیا کا دور چلا ہے، دنیا بھر میں اہم  میٹنگوں میں شریک ہونے والوں سے وقتی طور پر اُن کا موبائل ضبط کرلیا جاتا ہے، تاکہ میٹنگ کی کوئی بات  جانے انجانے میں باہر نہ جائے۔ بھٹکل میں بھی عوام کی طرف سے اس قسم کی کاروائی کی مانگیں اب کی جانے لگی ہیں۔


Share: